وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمۡ اُمَّةً وَسَطًا
لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ
لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ
جمعیت ابنائے قدیم
جامعہ دار السلام، عمر آباد
تمل ناڈو – 635808
جامعہ دار السلام، عمر آباد
تمل ناڈو – 635808
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لائحہ عمل
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ علمائے دین انبیاے کرام کے وارث ہیں۔ وراثت نبوت کا اولین تقاضا ہے کہ علماے کرام اپنے ایمان و عمل اور اخلاق و کردار میں اسلامی اوصاف کے حامل ہوں، اپنی شخصیت کو کر دار نبوت کے سانچے میں ڈھالیں، اور علمی و عملی دونوں میدانوں میں موثر و ممتاز بنیں۔
مرکزی جمعیت ابنائے قدیم کی ابتدا ہی سے یہ کوشش رہی ہے کہ ہر فرزند جامعہ ربانی عالم بن کر اپنی اور ملت کی دنیاوی فلاح اور اُخروی نجات کا ضامن ہو۔ جمعیت اپنے ارکان کو بیک وقت اصلاح ذات اصلاح امت، برادرانِ وطن میں ابلاغ دین اور خدمت خلق کے میدانوں میں سرگرم عمل دیکھنا چاہتی ہے۔
اسی تعلق سے یہاں چند راہ نما اصول پیش کیے جا رہے ہیں، جنھیں اپنا کر زندگی کو مثالی اور با مقصد بنایا جا سکتا ہے، اور تعلق باللہ کی لذت سے سرشار ہو کر دوسروں کو بھی اس سے آشنا کیا جا سکتا ہے، ان شاء اللہ۔
(۱) اصلاح نفس
- مثالی مومن اور اسلام کا مطلوب انسان بننے کی کوشش کریں، تاکہ ہم دین وملت اور ملک و انسانیت کے لیے مفید و موثر بن سکیں۔
- خود کو جہنم سے بچا کر رب کی رضا اور اس کی جنت کا مستحق بننا ہماری زندگی کا اولین ہدف ہو۔
- لمحہ بھر کے لیے بھی فراموش نہ کریں کہ با مقصد اور کامیاب زندگی کے لیے خوف الہی کا غلبہ اور آخرت میں جواب دہی کا استحضار ضروری ہے۔
- ہماری شخصیت میں دینی رنگ نمایاں ہو۔ ہمارے معاملات کھرے، طرز زندگی با وقار اور وضع قطع عالمانہ ہو، اور ہم ہر قسم کی لایعنی باتوں اور غیر مفید مشغلوں سے دور رہیں۔
- ہماری زندگی کا مقصد واضح اور اہداف متعین ہوں، اور اس کے لیے جذبۂ فنائیت و فدائیت کی کیفیت پیدا کریں۔
- مادہ پرستی کے اس دور میں ہم اخلاص وللہیت کے ساتھ اپنی ذمے داریوں کو فرض شناسی سے ادا کرنے کی کوشش کریں۔
- موبائل فون بہت بڑی آزمایش ہے۔ اس کے بے جا استعمال میں وقت کا ضیاع، تعمیری زندگی سے محرومی اور معصیت کا قوی امکان ہے۔ لہٰذا اسکرین ڈسپلن کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا ذمے دارانہ استعمال ہی کریں۔
- روزانہ کچھ نیا سیکھنے اور اپنے علم میں گہرائی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے منصوبہ بند مطالعہ کریں اور علمی صحبتیں اختیار کریں۔
- اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صحت بخش اور روح افزا عادتوں کو اپنانے اور انھیں ترقی دینے کی فکر کریں۔
- سونے سے پہلے احساس کی عدالت قائم کریں اور اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لیں۔
- نیک اعمال کی توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائیں اور گناہوں پر توبہ واستغفار کریں، تاکہ ہماری آج کی زندگی گزرے ہوے کل سے بہتر ہو۔
- اخلاص وللہیت اور اصلاح امت کی نبوی تڑپ کے ساتھ دعاؤں کا اہتمام کریں۔
:: عملی تدابیر ::
- تکبیر تحریمہ اور سنن مؤکدہ کے ساتھ نمازوں کی پابندی کریں۔
- صبح و شام کے اذکار اور مختلف اوقات کی دعاؤں کا التزام کریں۔
- با وضو سویا کریں اور سونے سے قبل اذکار مسنونہ کا اہتمام کریں۔
- نماز تہجد کی کوشش کریں، دعاؤں کا اہتمام کریں اور کثرت استغفار کو زندگی کا دائمی وظیفہ بنالیں کہ یہ سنتِ نبوی ہے۔
- روزانہ تدبر کے ساتھ تلاوت قرآن مجید کا التزام کریں، اور اس سلسلے میں پابندی کے لیے کوئی وقت خاص کر لیں۔
- تزکیہ نفس سے متعلق کتابوں کا مطالعہ توجہ سے کریں اور اس کی روشنی میں عملی نقشہ بنائیں، تا کہ انفرادی زندگی میں مثالی نمونہ بن کر اجتماعی زندگی میں اعلیٰ کردار ادا کر سکیں۔
- چن چن کر نیکی کریں اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر گناہوں سے بچیں۔
- نیک صحبت اختیار کریں اور صلاحیت و صالحیت کے پیکر اہل علم سے دین و خدمت دین کے معاملے میں وقتا فوقتا راہ نمائی لیتے رہیں۔
(۲) اصلاح امت
- گھر اور خاندان کی اصلاح، اصلاح امت کی سمت پہلا قدم ہے۔ لہذا ان کے عقائد و اعمال کی اصلاح کی طرف ترجیحی طور پر توجہ دیں۔
- اس وقت امت کو سب سے بڑا خطرہ اعتقادی بگاڑ، فکری ارتداد اور ذہنی الحاد کا در پیش ہے۔ امت میں پائے جانے والے ہر قسم کے اعتقادی، اور عملی بگاڑ کی اصلاح کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔
- مسلمانوں کو رب سے جوڑنے کی فکر کریں۔ اس کے لیے نماز، دعا، اذکار، تلاوت اور توبہ واستغفار کے اہتمام پر زور دیں۔
- اس بات کی کوشش کریں کہ مسلمانوں کے اخلاق بلند اور معاملات پاکیزہ ہوں، اور ان میں حلال و حرام اور جائز و نا جائز کی تمیز ہو۔
- اس بات کو یقینی بنانے کی فکر کریں کہ مسلمانوں کا طرز زندگی اسلامی ہو، اور وہ بے جا رسوم و رواج سے محفوظ رہیں۔
- معاشرے کے ذمے دار افراد سے تعلقات استوار رکھیں، تاکہ ان کے تعاون سے اصلاح معاشرہ کی موثر کوشش کی جاسکے۔
- امت کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی تدبیر کریں، اور کسی بھی صورت میں آپسی اختلافات کو بڑھاوا دینے کا سبب نہ بنیں۔
- علمی اور فقہی اختلاف کے باوجو د ملت کے مشترکہ مسائل میں مل جل کر کام کرنے کا شعور بیدار کریں، اور عوام میں اس شعور کو فروغ دیں۔
- امت کو ہر محاذ پر اونچا اٹھانے کی فکر کریں۔ اس کے لیے تعلیم اور تجارت و معیشت کے میدان میں آگے بڑھانے کی طرف توجہ دلائیں۔
:: عملی تدابیر ::
- منبر و محراب سے جڑ کر دین وملت کی مخلصانہ خدمت انجام دیتے رہیں کہ عوام سے جڑ کر کام کرنے کا یہ موثر ذریعہ ہے۔
- خطبات جمعہ وغیرہ میں دردمندانہ اسلوب اختیار کریں، اور ان کے لیے زندہ اور ضروری موضوعات کا انتخاب کریں۔
- اصلاح امت میں جوش سے زیادہ ہوش سے کام لیں، اور متعلقہ افراد سے تعلق پیدا کر کے ان کا دینی ذہن بنانے کی فکر کریں۔
- ملت کو غیر ضروری مسائل میں نہ الجھائیں، بلکہ امت میں عقیدہ و عمل کی مضبوطی، شریعت کی پابندی اور فروغ دین کا جذبہ پیدا کریں۔
- افراد سازی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ جمعیت کا ہر رکن کچھ افراد کو ہدف بنا کر مہینہ بھر اُن پر محنت کرے، اور تسلسل کے ساتھ ان کی متابعت کرے۔
- خواتین اور نوجوانوں کے لیے وقتاً فوقتاً تذکیری و تربیتی اجتماعات کا اہتمام کریں۔
- بچوں کے ساتھ ساتھ تعلیم بالغان کے لیے جز وقتی مکاتب قائم کرنے اور حسب استطاعت ان میں خدمت انجام دینے کی کوشش کریں۔
(۳) ابلاغ دین
- ابلاغ دین امت مسلمہ کا فرضِ منصبی ہے۔ یہ ہماری زندگی کا مقصد اور ہماری ساری کوششوں کا محور ہو۔
- یہ انسانیت کو نار جہنم سے بچانے کا مشن ہے۔ اس کے لیے برادرانِ وطن سے سچی ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا کریں۔
- برادران وطن سے دوری اور بے تعلقی مسلمانوں کا بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے وہ کئی قسم کی سنگین غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔
- وطنی بھائیوں سے تعلق اور قربت کو بڑھانا اور ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
- زبانی پیغام رسانی کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی کوشش کریں کہ ہمارا کردار بھی برادرانِ وطن کے لیے رحمت، اور ان کی غلط فہمیوں کے ازالے کا ذریعہ ہو۔
- مسلم عوام میں یہ شعور پیدا کرنے کی جدو جہد کریں کہ برادرانِ وطن کے ساتھ حسن سلوک کرنا، خوش اخلاقی سے پیش آنا، اچھے سماجی روابط رکھنا اور معاملات میں سچائی و دیانت داری کو ملحوظ رکھنا ہماری ذمے داری ہے۔
- عام برادرانِ وطن کے ساتھ غیر مسلم اصحاب اثر ورسوخ کے سامنے بھی موثر اسلوب میں ابلاغ دین کی کوشش کریں۔
- ابلاغ دین اور خدمت اسلام کی روح اخلاص و بے نفسی ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا پر اپنی کوششوں کی بے جا تشہیر سے پر ہیز کریں۔
- ابلاغ دین کے لیے مواقع کا انتظار کرنے کی بجائے موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں، اور دیگر امکانات پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
- نو مسلم ہمارے مہاجر بھائی ہیں۔ ان کے مسائل حل کرنے میں تعاون کریں، اور انھیں معاشرے میں باعزت مقام دلانے کی کوشش کریں۔
- ابناے جامعہ کے علاوہ انصار کی حیثیت سے ایسے افراد کو تیار کریں جو ابلاغ دین اور اصلاح امت کے میدان میں معاون ثابت ہوں۔
:: عملی تدابیر ::
- تقریر تحریر اور انفرادی ملاقات کے ذریعے امت کی دعوتی ذہن سازی کریں۔ اس شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کی طرح غیر مسلم بھی قابل احترام ہیں۔
- وقت ضرورت ان کے کام آنا، ان کی خیر خواہی، اور ان کے ساتھ انصاف پسندی اور صبر وتحمل سے پیش آنا اسلام کی تعلیم اور مشتر کہ سماج کی ضرورت ہے۔
- مساجد ابلاغ دین کا موثر ذریعہ ہیں۔ برادرانِ وطن کو مساجد کی زیارت کا موقع فراہم کریں، اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کریں۔
- سنجیدہ اور سمجھ دار غیر مسلموں کو ترجمہ قرآن اور مناسب دینی لٹریچر پہنچا کر دین کا پیغام پہنچانے کی کوشش کریں۔
- نیز دینی اور سماجی تقریبات میں مدعو کر کے انھیں اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کریں۔
- ابلاغ دین کے عظیم کام سے بحیثیت مقصد زندگی والہانہ لگاؤ ہمیشہ قائم رکھیں۔
(۴) خدمت خلق
- انفرادی اور اجتماعی سطح پر خدمت خلق کے جذبے کو فروغ دیں اور اس راہ سے رضائے الہی حاصل کرتے ہوے دنیا کی ضرورت بنیں۔
- خدمت خلق مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہ ہو، بلکہ مسلم وغیر مسلم کے فرق کے بغیر امدادی سرگرمیاں انجام دی جائیں۔
- دائمی خدمت کے ساتھ وقتی خدمت کی طرف بھی توجہ دیں، اور حادثات و آفات کے موقعوں پر ہر قسم کے تعاون کی کوشش کریں۔
- ارباب حل و عقد کو توجہ دلائیں کہ وہ اجتماعی زکوۃ اور صدقات و عطیات کا شفاف نظام قائم کرنے کی کوشش کریں اور اس کے ذریعہ غربت زدہ مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار سے جوڑنے اور حسب طاقت ان کی مدد کرنے اور کرانے کی کوشش کریں۔
- مساجد کے ہمہ گیر کردار کو بحال کرنے کی خاطر انھیں خدمت خلق کا مرکز بنانے کی فکر کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مساجد کے ذریعے برادرانِ وطن کو بھی فائدہ پہنچے۔
- فلاحی اور تعلیمی اداروں کے رکن بن کر اپنی جانب سے ہر ممکن تعاون پیش کریں، اور نئی نسل کی دینی ذہن سازی و تعلیم و تربیت کی فکر کریں۔
- دینی و فلاحی اداروں اور تنظیموں سے روابط بڑھائیں اور خیر و تقویٰ کی بنیاد پر ہر ایک کا تعاون کریں۔
- معاشرے کے اصحاب ثروت اور با اثر افراد سے رابطہ کر کے ضرورت مندوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔
:: عملی تدابیر ::
- معاشرے کے ضرورت مندوں (مثلاً غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور بزرگوں) کی خدمت دینی فریضہ سمجھ کر رضائے الہی کے لیے انجام دیں۔
- رشتہ داروں، پڑوسیوں اور اہل محلہ سے خوش گوار تعلقات رکھیں، اور ان کا ہرممکن تعاون کریں۔
- بیماروں کی عیادت کریں اور علاج معالجے میں ان کا تعاون کریں۔
- تنہا رہنے والے بزرگوں اور دکھی انسانوں سے ہمدردی کریں۔ ان کے لیے بنیادی ضروریات کا نظم کرنے کی کوشش کریں۔
- روزانہ ایک اضافی کھانا بنا کر کسی بھوکے کو کھلانے، یا روزانہ کم سے کم کسی ایک ضرورت مند کی مدد کرنے کو زندگی کا معمول بنالیں۔
- ملت میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں، اور داخلوں کے موقع پر بچوں کو اسکولوں اور مدرسوں میں شریک کرانے کی مہم چلائیں۔
- اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندوں کو قرضِ حسنہ دیں، اور غیر سودی اداروں کے قیام کے امکانات پر غور کریں۔
- اسکولوں میں دینی و اخلاقی ذہن سازی کے اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کریں، اور بچوں میں بندگی رب کے ساتھ بندوں کی خدمت کا شعور پیدا کریں۔
- اپنی کمائی کا کچھ حصہ خدمت خلق کے لیے پابندی سے نکالتے رہیں۔
(۵) تنظیم
- دین وملت اور ملک و انسانیت کی خدمت جمعیت ابنائے قدیم کے قیام کا بنیادی مقصد ہے۔ اس لیے ہر فرزند جامعہ کو جمعیت سے جوڑنے کی کوشش کریں۔
- ماہانہ تذکیری نشستوں کا اہتمام کریں، اور انھیں با مقصد اور مؤثر بنانے کے لیے ہدف مقرر کر کے کام کریں۔
- مرکزی جمعیت کی ہدایات کی روشنی میں مقامی شاخوں کو مضبوط اور مؤثر بنانے کی فکر کریں، اور ان کی خدمات کو ترقی دیں۔
- اس بات کا خیال رہے کہ تنظیم کی کامیابی کے لیے نظم وضبط اور اصول کی پابندی، اور باہمی احترام کا ماحول ضروری ہے۔
- سمع و طاعت کی فضا قائم کریں، اور باہمی اعتماد کے ساتھ اہم کاموں میں مشاورت اور تقسیم کار کے اصول کو ملحوظ رکھیں۔
- اپنے ساتھیوں کے لیے گہری محبت اور سچی خیر خواہی کا جذبہ رکھیں، اور خوش گوار باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔
- دیگر مکاتب فکر، جماعات و جمعیات اور مدارس و جامعات کے اہل علم اور ذمے داراوں سے اپنے تعلقات کو مستحکم رکھیں۔
- اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہوے ابنائے جامعہ کی تعمیر شخصیت کے لیے بھی فکر کریں۔
:: عملی تدابیر ::
- اپنے علاقوں میں ماہانہ تذکیری و تنظیمی اجلاس لازما منعقد کریں، اور انھیں موثر بنانے کی کوشش کریں۔
- رو ماه نامه راہ اعتدال کا پابندی سے مطالعہ کریں۔ خود بھی اس کے خریدار بنیں اور اس کی توسیع اشاعت کے لیے بھی کوشش کریں۔
- ہر قسم کی انتہا پسندی سے بچتے ہوے فکر و عمل میں اعتدال کو قائم رکھیں، اور دین و انسانیت کی خدمت مثبت اور تعمیری طریقے پر کرتے رہیں۔
- جامعہ کی فکر اور پیغام اتحاد و محبت کا صحیح تعارف کرائیں، اور اس سلسلے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کریں۔
- امت کے ہونہار فرزندوں کو جامعہ کے طویل اور مختصر کورسوں میں داخل کرانے کی طرف خصوصی توجہ دیں۔