جمعیت ابنائے قدیم: منزل بہ منزل
-
۱۹۴۳ء (1943)
بنیادی قیام
جمعیت ابنائے قدیم کی بنیاد ۱۹۴۳ء میں رکھی گئی۔ لیکن چند مجبوریوں کی وجہ سے کچھ ہی عرصہ بعد انجمن جمود کا شکار ہو کر رہ گئی۔
-
۱۹۴۵ء (1945)
دوسری تشکیل اور نظریہ
دوبارہ ۱۹۴۵ء میں اس کی تشکیل ہوئی۔ مولانا ابوالبیان حماد عمری لکھتے ہیں کہ ارباب جامعہ نے فارغین اور تعلیم منقطع کرنے والے طلبہ کو منظم کرنے کی ضرورت محسوس کی۔
اس ضرورت کے پیش نظر مرکزی جمعیت ابنائے قدیم کی از سر نو تشکیل کی گئی۔
شیخ الحدیث مولانا حافظ عبد الواجد عمری اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔
-
۱۹۵۵ء (1955)
تیسری کوشش
پھر ۱۹۵۵ء میں تیسری مرتبہ اس کی تشکیل عمل آئی لیکن تھوڑی ہی مدت گزرنے کے بعد ختم ہو کر رہ گئی۔
مولانا امین احمد عمری لکھتے ہیں: دوبارہ ۱۹۵۵ء میں کا کا محمد اسماعیل کے مکان پر بعض فرزندان جامعہ کی کوششوں سے از سر نو اس انجمن کی تشکیل ہوئی لیکن بد قسمتی سے یہ بھی باقی نہ رہ سکی۔
-
۱۹۷۵ء تا حال (1975 – Present)
تشکیل جدید اور کامیابی
مگر ذمہ داران جامعہ اور ابناے جامعہ کے عزم و حوصلے پست نہیں ہوے۔ ۱۹۷۵ء میں جامعہ کے سالانہ جلسے کے موقع پر انجمن طلبہ قدیم کی تشکیل جدید کے لیے پر زور تحریک کی گئی، جس میں مولا نا محمد سلیمان عمری اور ان کے ساتھی پیش پیش تھے۔
فوری طور پر ایک مجلس قائمہ تشکیل دی گئی جس کے عہدیداران منتخب ہوئے:
- صدر: مولانا سید عبدالکبیر عمری
- معتمد: مولانا ابوالبیان حماد عمری
- خازن: مولانا خلیل الرحمن عمری
الحمد للہ اس کے بعد سے یہ جمعیت ترقی کے منازل طے کرتی جارہی ہے۔